لندن: برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے اہم تقرریوں اور سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کی بشریٰ بی بی سے تیسری شادی نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ طرزِ حکمرانی پر بھی سوالات کھڑے کیے۔ سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے لکھا کہ سابق وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق بشریٰ بی بی کی روحانی مشاورت نے فیصلہ سازی کے عمل پر گہرا اثر ڈالا۔
مزید بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی کے اثر کے باعث عمران خان اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں ناکام رہے، حتیٰ کہ بانی پی ٹی آئی کا طیارہ بھی ان کی اجازت کے بغیر اڑان نہیں بھر سکتا تھا۔
رپورٹ میں بعض مبصرین کے حوالے سے کہا گیا کہ حساس ادارے کے کچھ افراد مبینہ طور پر ایسی معلومات براہِ راست بشریٰ بی بی تک پہنچاتے تھے، جنہیں وہ عمران خان کے سامنے اپنی روحانی بصیرت کے طور پر پیش کرتی تھیں۔



