لاہور: حکومتی اقدامات کے باوجود پنجاب کی فضا مسلسل آلودگی کا شکار ہے۔ محکمہ ماحولیات پنجاب کے مطابق لاہور میں ایئر پارٹیکولیٹ میٹرز کی تعداد 414 ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد لاہور کو صوبے کا سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار دیا گیا۔
دیگر شہروں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ خانیوال میں 412، فیصل آباد میں 354 اور ملتان میں 342 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ورلڈ ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور کو 330 اے کیو آئی کے ساتھ دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ہے، جبکہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی 450 پارٹیکولیٹ میٹرز کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔
پاکستان میں فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات میں صنعتی اخراج، گاڑیوں کا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا اور غیر معیاری ایندھن کا استعمال شامل ہیں۔ لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں اسموگ ہر سال سردیوں کے موسم میں شدت اختیار کر جاتی ہے، جس سے شہریوں کو سانس، آنکھوں اور دل کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مؤثر پالیسی، سخت قانون سازی اور عوامی شعور بیداری کے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا مشکل ہے۔



