نصیرآباد رپورٹ وحید بادانی نصیر آباد میں تعلقہ ہسپتال کی بحالی کے لیے احتجاجی ریلی اور دھرنا 22ویں روز بھی – سجاگ شھری اتحاد کے مطالبات شدت اختیار کر گئے
نصیر آباد میں تعلقہ ہسپتال کی نامکمل عمارت اور رورل ہیلتھ سنٹر میں ڈاکٹروں، ادویات اور بنیادی طبی سہولیات کی شدید قلت کے خلاف شہریوں کا 22ویں روز بھی احتجاج جاری رہا۔ شہر کی عوامی تنظیم سجاگ شھری اتحاد نصیرآباد کی کال پر نیشنل بنک سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی مرکزی چوراہے پر دھرنے میں تبدیل ہو گئی۔
احتجاجی مظاہرے کی قیادت سجاگ شھری اتحاد نصیرآبا، آصف کاٹھیو محمد ملوک، محمد ٹگر، دیدار کھوکر عارف بروہی اور دیگر سماجی رہنماؤں نے کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور محکمہ صحت کی نااہلی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت سندھ، صوبائی وزیر صحت، سیکرٹری صحت، ایم این اے عامر مگسی، ایم پی اے برہان خان چانڈیو، ڈی ایچ او قمبر اور ایم ایس نصیر آباد سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ تعلقہ اسپتال کے باقی ماندہ تعمیراتی کام کو فوری طور پر مکمل کرکے اسپتال کو لاکھوں لوگوں کی سہولت فراہم کریں۔
رہنماؤں نے کہا احتجاجی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تعلقہ ہسپتال کی تعمیر مکمل نہیں ہو جاتی، دیہی مرکز صحت کی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں، مطالبات کو نظر انداز نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔



