Hot Topics

بچوں کے حقوق پر قانون سازی مؤثر، مگر عملدرآمد میں مسائل ہے، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی ہے، تاہم ان قوانین پر عملدرآمد کے دوران کئی مسائل درپیش ہیں۔ بچوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت چائلڈ لیبر اور بچوں پر ظلم کے خلاف مسلسل اقدامات کرتی رہی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ غربت سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے اکثر والدین بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے کام پر لگا دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنانے کے لیے مقابلے کے امتحانات کے ذریعے نئے اساتذہ بھرتی کیے گئے، لیکن اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری بچوں کو پڑھانا ہے، نہ کہ احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بچوں سے بدسلوکی کے کیسز کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے سخت سزائیں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بچوں کو "گڈ ٹچ” اور "بیڈ ٹچ” کی تعلیم دی جاتی ہے، اگرچہ اس پر تنقید بھی ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اسمبلی نے کم عمری کی شادی کے خلاف قانون پاس کیا ہے، لیکن اکثر بچے اور بچیاں پنجاب جا کر شادی کر لیتے ہیں، جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کی کوشش ہے کہ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد صفر تک لائی جائے۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں، تاہم ان پر عملدرآمد ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ سندھ نے کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی میں سبقت لی ہے اور بچوں کو چائلڈ ابیوز سے بچانے کے لیے تربیتی پروگرام بھی شروع کیے ہیں۔ اس کے باوجود غربت، سماجی رویے اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی وجہ سے بچوں کو تعلیم اور تحفظ فراہم کرنے میں مشکلات برقرار ہیں۔ عالمی ادارے بھی بارہا زور دے چکے ہیں کہ پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے سخت قوانین کے ساتھ ساتھ مؤثر عملدرآمد اور سماجی آگاہی کی ضرورت ہے۔

Tags :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Recent News

About Us

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, mattis, pulvinar dapibus leo.

Top categories

Tags

Blazethemes @2024. All Rights Reserved.