سانگھڑ (حسنین عاشق ساند) ٹنڈوآدم کے نواحی گاؤں سچو ساند میں معروف سماجی اور ثقافتی شخصیت عبدالغفور کیریو کی جانب سے ایک شاندار مچ کچہری کا اہتمام کیا گیا، جس میں سندھ کی قدیمی ثقافت اور لوک روایتوں کے دلکش رنگ بھرپور انداز میں جھلکتے رہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی وِنگ کمانڈر (ر) محمد اقبال کیریو تھے۔ اس موقع پر نثار احمد بروہی، محمد اکبر بلوچ، پروفیسر علی بخش بھن، شاہجہان جونیجو، رئیس حبیب خان مری، سندھ بار کونسل کے الطاف جونیجو، پریس کلب ٹنڈوآدم کے صدر شیراز سمون، ٹنڈوآدم بار کے صدر ایڈوکیٹ عبداللہ خٹک، سندھ ادبی سنگت کے مرکزی سیکریٹری جنرل نور چاکرانی، سینئر صحافی عاشق حسین ساند، ریاض حسین سنجرانی، علی تھہیم، واحد بخش چنا، آچر ساند، خالد حسین خاصخیلی، ممتاز تھہیم، امان اللہ انڑ، حسنین عاشق ساند، جان محمد گاہو، وڈيرو علی محمد ساند، امام بخش ساند، ذوالفقار علی ساند، ایڈوکیٹ عبدالرزاق ساند سمیت سگا، ساس، اساتذہ، طلبہ سمیت شہریوں نے بڑی تعداد ۾ شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وِنگ کمانڈر (ر) محمد اقبال کیریو نے کہا کہ مچ کچہری سندھ کی اصل ثقافتی پہچان ہے۔ ایسی روایات نوجوان نسل کے لیے شناخت کا ذریعہ ہیں، جنہیں زندہ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
دیگر مقررین، جن میں شاہجہان جونیجو، رئیس حبیب خان مری، ایڈووکیٹ الطاف جونیجو، شیراز سمون، ایڈووکیٹ عبداللہ، نور چاکرانی ۽ ايڊووڪيٽ راشد علي خان شامل تھے انہوں نے کہا کہ سندھ کی صدیوں پرانی تہذیب لوک روایتوں میں ھے اس قسم کی مچ کچہریاں سماج میں محبت اور یکجہتی کو بڑھانے میں مددگار ھوتی ھیں۔تقریب میں کمپیئرنگ کے فرائض ساجد چاکرانی ۽ نامور شاعر امتياز خاصخیلی نے انجام دیے جبکہ مختلف علاقوں سے آئے ھوئے سگهڙوں نے اپنے بیتوں کے ذریعے بہرپور داد حاصل کی۔ آخر میں صوفی اور کلاسیکل گلوکار ہدایت گلزار نے اپنی دلکش اور روحانی دھنوں سے محفل کو چار چاند لگا دیے، جس سے کچہری کا ماحول مزید رنگین اور پرجوش بن گیا۔
شرکاء کے مطابق، سچو ساند میں منعقد یہ مچ کچہری نہ صرف ایک ثقافتی تقریب تھی بلکہ سندھ کے ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ثابت ہوئی



