کراچی – امریکی اسکول ڈسٹرکٹس کی جانب سے میٹا اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دائر مقدمے میں انکشاف ہوا ہے کہ میٹا نے اپنی اندرونی تحقیق روک دی تھی جس میں واضح شواہد ملے تھے کہ فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
2020 میں شروع کیے گئے ایک تحقیقی منصوبے "پروجیکٹ مرکری” کے تحت میٹا سائنسدانوں نے نیلسن سروے فرم کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر صارفین ایک ہفتے کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام بند کر دیں تو کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ دستاویزات کے مطابق، نتائج کمپنی کے لیے مایوس کن تھے کیونکہ جن افراد نے یہ پلیٹ فارمز بند کیے، انہوں نے ڈپریشن، بے چینی، تنہائی اور سماجی موازنہ میں کمی کی اطلاع دی۔
تاہم میٹا نے ان نتائج کو شائع کرنے یا مزید تحقیق کرنے کے بجائے منصوبہ بند کر دیا اور اندرونی طور پر کہا کہ یہ منفی نتائج میڈیا کے موجودہ بیانیے سے متاثر ہیں۔ لیکن نجی طور پر اسٹاف نے اس وقت کے عالمی پالیسی سربراہ نک کلیگ کو یقین دلایا کہ تحقیق کے نتائج درست ہیں۔ ایک محقق نے لکھا: "نیلسن اسٹڈی سماجی موازنہ پر براہِ راست اثر دکھاتی ہے”۔
ایک اور اسٹاف رکن نے تشویش ظاہر کی کہ ان نتائج کو چھپانا ایسے ہی ہے جیسے تمباکو کی صنعت جانتی ہو کہ سگریٹ نقصان دہ ہیں لیکن پھر بھی عوام سے چھپائے۔
دستاویزات کے مطابق، میٹا نے کانگریس کو بتایا کہ وہ یہ اندازہ لگانے کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ اس کے پلیٹ فارمز نوعمر لڑکیوں کے لیے نقصان دہ ہیں، حالانکہ اندرونی تحقیق اس کے برعکس تھی۔
میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے ہفتے کو بیان میں کہا کہ تحقیق کو اس لیے روکا گیا کیونکہ اس کا طریقہ کار ناقص تھا، اور کمپنی نے ہمیشہ اپنی مصنوعات کو محفوظ بنانے کے لیے کام کیا ہے۔
یہ الزام کہ میٹا نے سوشل میڈیا کے نقصانات کے شواہد دبائے، ان کئی الزامات میں سے ایک ہے جو جمعے کو دائر کیے گئے مقدمے میں شامل ہیں۔ اس مقدمے میں میٹا کے ساتھ ساتھ گوگل، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
دیگر الزامات میں شامل ہے کہ یہ پلیٹ فارمز بچوں کو 13 سال سے کم عمر میں استعمال کی ترغیب دیتے ہیں، بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کو روکنے میں ناکام رہے، اور اسکول کے دوران نوعمروں کو زیادہ استعمال کی طرف راغب کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ ان کمپنیوں نے بچوں پر مرکوز تنظیموں کو مالی مدد دے کر اپنی مصنوعات کو محفوظ قرار دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔
ایک مثال میں، ٹک ٹاک نے نیشنل پی ٹی اے کو اسپانسر کیا اور اندرونی طور پر فخر کیا کہ وہ اس تنظیم کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق، ٹک ٹاک حکام نے کہا کہ پی ٹی اے مستقبل میں "جو ہم چاہیں گے وہی کرے گا” اور ان کا سی ای او ہمارے حق میں عوامی بیانات دے گا۔



