فیصل آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دنیا نے ہی نہیں بلکہ بھارت نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے اسے منہ توڑ جواب دیا۔
فیصل آباد میں ضمنی الیکشن میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عوام مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیں گے، کیونکہ ضمنی انتخابات میں ٹرن آؤٹ عموماً 25 سے 30 فیصد کے درمیان ہی رہتا ہے۔
عمران خان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سیاست نہیں کر رہے، بلکہ انہوں نے کبھی سیاست کی ہی نہیں۔ ان کے مطابق یہ بدقسمتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ملک کی سیاست میں لایا گیا۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ جب عمران خان اقتدار میں تھے تو وہ کہتے تھے کہ کسی سے بات نہیں کریں گے، اور ان کی ساری توجہ صرف مخالفین پر مقدمات بنانے پر مرکوز تھی۔ اس کے برعکس ہم آج بھی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کرنے کے حق میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پیشکش کی کہ آئیں "میثاقِ پاکستان” پر بات کریں، کیونکہ جمہوریت مکالمے سے آگے بڑھتی ہے، لیکن عمران خان نے ڈائیلاگ کے بجائے ڈیڈلاگ کیا۔
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ پورے حلقے میں نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی روکا گیا، کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے باعث مریم نواز سے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان رکوایا گیا، تاہم منصوبوں کی پلاننگ مکمل ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے کام عوام کے سامنے ہیں۔
بھارت کے ساتھ مئی میں ہونے والی جھڑپ کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ دنیا نے ہی نہیں بلکہ بھارت نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے اسے منہ توڑ جواب دیا۔
رانا ثنا اللہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور اس وقت وزیراعظم کے مشیر ہیں۔ وہ ماضی میں وفاقی وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں اور ملکی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کا حالیہ بیان پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی سرحدی کشیدگی کے تناظر میں ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ پاکستان نے اس جھڑپ کو اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ قرار دیا تھا، اور رانا ثنا اللہ کے مطابق بھارت نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا۔ یہ بیان ضمنی انتخابات کے موقع پر دیا گیا، جہاں مسلم لیگ (ن) عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔



