بھارتی سیاستدان اور سینئر اداکارہ جیا بچن اکثر سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں پاپارازی سے تلخ کلامی کرتی نظر آتی ہیں۔ کبھی وہ غصے میں انہیں جھڑک دیتی ہیں اور کبھی بغیر کچھ کہے تیزی سے ان کے درمیان سے گزر جاتی ہیں۔
اب ایک حالیہ انٹرویو میں جیا بچن نے اپنے رویے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا میڈیا کے ساتھ تعلق "زبردست” ہے لیکن پاپارازی کے ساتھ "زیرو”۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ لوگ کون ہیں اور کیا واقعی ملک کے عوام کی نمائندگی کرنے کے لیے تربیت یافتہ ہیں؟
جیا بچن نے کہا کہ وہ میڈیا کی پراڈکٹ ہیں کیونکہ ان کے والد صحافی تھے، اس لیے میڈیا اور صحافیوں کے لیے ان کے دل میں بے حد عزت ہے۔ تاہم پاپارازی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ موبائل فون لے کر سمجھتے ہیں کہ کسی کی بھی تصویر لے سکتے ہیں اور کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاپارازی نہ تعلیم یافتہ ہیں نہ باشعور، اور ان کی سوشل میڈیا تک رسائی انہیں یہ غلط فہمی دیتی ہے کہ وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ جیا بچن کے مطابق یہ لوگ غیر مہذب زبان استعمال کرتے ہیں اور نامناسب کمنٹس پاس کرتے ہیں۔
انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دہلی میں ان کے ایک اسٹاف ممبر نے کہا کہ وہ سوشل نیٹ ورک استعمال نہیں کرتے کیونکہ وہاں جیا بچن کو "سب سے زیادہ نفرت انگیز شخصیت” سمجھا جاتا ہے۔ اس پر جیا بچن نے جواب دیا کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جیا بچن نہ صرف بھارتی فلم انڈسٹری کی سینئر اداکارہ ہیں بلکہ بھارتی پارلیمنٹ کی رکن بھی ہیں۔ وہ اکثر میڈیا کے کردار اور سماجی رویوں پر کھل کر بات کرتی ہیں۔ پاپارازی کے ساتھ ان کی تلخ کلامی کئی بار خبروں کی زینت بنی ہے، جس پر عوامی رائے منقسم ہے۔ کچھ لوگ ان کے رویے کو سخت سمجھتے ہیں جبکہ کچھ اسے نجی زندگی کے تحفظ کے لیے درست قرار دیتے ہیں۔



