اسلام آباد: وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دنیا میں جاری تنازعات عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں، مئی میں پاک بھارت جنگ کی صورتحال نہایت خطرناک ثابت ہوسکتی تھی۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی جنوبی ایشیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، جہاں غربت، ناخواندگی اور ناگہانی آفات جیسے مسائل پہلے ہی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو اپنے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں انسانیت کا قتل عام کیا ہے جبکہ دیرینہ مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا خطہ ہے اور یہاں سکیورٹی کا منظرنامہ بھی پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی معاشی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی اور غذائی قلت کے مسائل سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافہ اور بار بار آنے والے سیلاب معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا، جو خطے کے لیے خطرناک پیش رفت ہے۔ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں، خاص طور پر کشمیر کے مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیان کئی بار جنگیں ہو چکی ہیں۔ حالیہ برسوں میں پانی کے مسائل اور سندھ طاس معاہدے پر اختلافات نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی اور خطے میں بڑھتی ہوئی آبادی نے غربت، غذائی قلت اور سکیورٹی کے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اسحاق ڈار کا بیان اسی تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے عالمی برادری کو تنازعات کے حل اور خطے کے امن کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔



