کراچی: شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے شہر کی بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کی حالت گزشتہ کئی دہائیوں سے جوں کی توں ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ عوام جواب مانگیں۔
انسٹاگرام پر جاری ویڈیو پیغام میں بشریٰ انصاری نے کہا کہ جب لوگ کہتے ہیں کہ کراچی گندا ہے اور سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں تو یہ بالکل درست ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں کے لوگ بااخلاق اور مہمان نواز ہیں، چاہے مہمان پنجاب، خیبر پختونخوا یا بلوچستان سے آئیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 30 سے 40 برسوں سے کراچی کی حالت بہتر بنانے کے وعدے کیے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نظر نہیں آتا۔ اداکارہ نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت پر تنقید نہیں کر رہیں، مگر ذمہ دار ادارے ہر سال بہتری کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ شہر کی حالت وہی کی وہی ہے۔
بشریٰ انصاری نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے شہریوں کو چاہیے کہ وہ اجتماعی طور پر پٹیشن دائر کریں تاکہ حکام کو جواب دینا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار ادارے بھی اسی شہر سے ہیں، کیا انہیں کراچی سے محبت نہیں؟ آخر کب یہ شہر بہتر ہوگا؟
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہے، لیکن دہائیوں سے اس کی حالت زار پر شہری اور ماہرین مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، کچرے کے ڈھیر، نکاسی آب کے مسائل اور ناقص شہری منصوبہ بندی نے کراچی کو بدترین شہری بحران میں مبتلا کر رکھا ہے۔ مختلف حکومتوں اور اداروں کی جانب سے بارہا وعدے کیے گئے کہ شہر کو بہتر بنایا جائے گا، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بشریٰ انصاری کا بیان اسی عوامی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں فنکار اور شہری یکساں طور پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کب کراچی کو اس کا حق دیا جائے گا۔


