ممبئی: بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈگو نے جمعہ کے روز تقریباً 500 پروازیں منسوخ کر دیں، جبکہ نئی دہلی سے تمام روانگیاں مکمل طور پر بند کر دی گئیں۔ یہ بحران چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے اور ہزاروں مسافر ملک بھر میں پھنس گئے ہیں، جسے ایئرلائن کی تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق ممبئی سے 104، بنگلورو سے 102 اور حیدرآباد سے 92 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ دہلی ایئرپورٹ نے اعلان کیا کہ انڈگو کی تمام روانگیاں جمعہ کے روز منسوخ رہیں گی، جس کی تعداد 235 پروازوں تک پہنچ گئی۔
انڈگو نے ریگولیٹر کو بتایا ہے کہ اس کی پروازیں 10 فروری تک مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی۔ کمپنی نے رات کے وقت پائلٹس کے ڈیوٹی اوقات سے متعلق کچھ پابندیوں میں نرمی کی درخواست بھی کی ہے۔
ایئرلائن کے مطابق یہ بحران بنیادی طور پر "غلط اندازے اور منصوبہ بندی کی کمی” کے باعث پیدا ہوا ہے۔ نئے قوانین کے تحت پائلٹس کو ہفتہ وار لازمی آرام کے اوقات میں 12 گھنٹے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے کل آرام کا وقت 48 گھنٹے ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ پائلٹس کو اب صرف دو رات کے وقت لینڈنگ کی اجازت ہے، جو پہلے چھ تھی۔
جمعہ کو انڈگو کے شیئرز تقریباً 3 فیصد گر گئے، جس سے ہفتہ وار کمی 10.3 فیصد تک پہنچ گئی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایئرلائن کی وقت کی پابندی جمعرات کو مزید گر کر 8.5 فیصد رہ گئی، جو بدھ کو 19.7 فیصد تھی۔ بدھ کو 150 اور جمعرات کو 250 سے زائد پروازیں منسوخ کی گئی تھیں۔
انڈگو ایئرلائن بھارت کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ہے جس کا مارکیٹ شیئر 60 فیصد سے زائد ہے۔ تاہم نومبر 2025 سے نافذ ہونے والے نئے پائلٹ ڈیوٹی قوانین نے ایئرلائن کے آپریشنز کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان قوانین کے تحت پائلٹس کو زیادہ آرام دینا لازمی قرار دیا گیا ہے اور رات کے وقت لینڈنگ کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔ ایئرلائن نے ان قوانین کے نفاذ کے لیے مناسب منصوبہ بندی نہیں کی، جس کے نتیجے میں ہزاروں مسافر متاثر ہوئے اور کمپنی کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بحران نہ صرف انڈگو کے لیے بلکہ بھارت کی فضائی صنعت کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے۔



