Hot Topics

روسی صدر کا پُرتپاک استقبال، بھارت روسی تیل خریدنے کا حق رکھتا ہے، پوتن

نئی دہلی: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھارت کے دورے کے دوران کہا ہے کہ اگر امریکا روسی ایندھن خرید سکتا ہے تو بھارت کو بھی یہ حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا خود روس سے جوہری ایندھن خریدتا ہے، تو پھر بھارت کو روسی تیل خریدنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔

پوتن نے بھارتی نشریاتی ادارے "انڈیا ٹوڈے” کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ سنجیدہ غور کا متقاضی ہے اور وہ اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بھارت اور روس کے تعلقات سوویت یونین کے زمانے سے مضبوط ہیں، اور روس دہائیوں سے بھارت کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کنندہ رہا ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے باوجود بھارت روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار بن کر ابھرا ہے۔

تاہم حالیہ امریکی پابندیوں اور بھارتی مصنوعات پر اضافی ٹیرف کے باعث بھارت کی خام تیل درآمدات تین سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے والی ہیں۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ بھارت روسی تیل خرید کر ماسکو کی جنگی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔

پوتن نے کہا کہ مجموعی تجارتی حجم میں معمولی کمی آئی ہے لیکن مجموعی طور پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں روسی تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی تجارت معمول کے مطابق جاری ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پوتن کا ایئرپورٹ پر استقبال کیا، جو ایک غیر معمولی اور گرمجوشی پر مبنی اقدام تھا۔ دونوں رہنماؤں نے گلے مل کر خیرمقدم کیا اور بعد میں ایک نجی عشائیہ میں شریک ہوئے۔ روسی وزراء اور کاروباری وفد بھی اس دورے میں شامل ہیں، اور توقع ہے کہ جمعہ کو دونوں ممالک کئی معاہدوں کا اعلان کریں گے۔

مودی نے ایک بیان میں کہا: "صدر پوتن کو بھارت میں خوش آمدید کہتے ہوئے مجھے خوشی ہے۔ بھارت-روس دوستی وقت کے امتحان پر پوری اتری ہے اور ہمارے عوام کو ہمیشہ فائدہ پہنچایا ہے۔”

روس اور بھارت کے تعلقات تاریخی طور پر گہرے ہیں۔ سوویت یونین کے دور سے لے کر آج تک روس بھارت کا اہم دفاعی اور توانائی کا شراکت دار رہا ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک نے روس پر سخت پابندیاں عائد کیں، لیکن بھارت نے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روسی تیل خریدنا جاری رکھا۔ امریکا اور یورپی یونین خود بھی روسی توانائی اور دیگر مصنوعات درآمد کرتے ہیں، جس پر بھارت نے اعتراض اٹھایا ہے کہ اگر مغرب روس سے تجارت کر سکتا ہے تو بھارت کو کیوں روکا جا رہا ہے۔ موجودہ دورہ اس پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے، جہاں دونوں ممالک اپنی تجارتی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں

Tags :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Recent News

About Us

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, mattis, pulvinar dapibus leo.

Top categories

Tags

Blazethemes @2024. All Rights Reserved.