واشنگٹن: امریکا میں بیروزگاری الاؤنس کے لیے نئی درخواستوں کی تعداد گزشتہ ہفتے تین سال کی کم ترین سطح پر آ گئی، جس سے لیبر مارکیٹ کے شدید بگاڑ کے خدشات کم ہو گئے ہیں۔
امریکی محکمہ محنت کے مطابق 29 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں بیروزگاری الاؤنس کی ابتدائی درخواستیں 27 ہزار کم ہو کر 1,91,000 رہ گئیں، جو ستمبر 2022 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ ماہرین نے اس ہفتے کے لیے 2,20,000 درخواستوں کی پیش گوئی کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تھینکس گیونگ تعطیلات کے دوران اعداد و شمار میں موسمی ایڈجسٹمنٹ کی مشکلات اس غیر متوقع کمی کی ایک وجہ ہو سکتی ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ لیبر مارکیٹ اب بھی ایک "ہولڈنگ پیٹرن” میں ہے۔
ریویلیو لیبز کے مطابق نومبر میں امریکی معیشت نے 9,000 ملازمتیں کھو دیں، جبکہ اے ڈی پی رپورٹ نے بتایا کہ نجی شعبے کی ملازمتوں میں ڈھائی سال کی سب سے بڑی کمی ہوئی۔
ایف ڈبلیو ڈی بانڈز کے چیف اکانومسٹ کرسٹوفر رپکی نے کہا کہ متبادل اعداد و شمار شاید لیبر مارکیٹ کی کمزوری کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق فیڈرل ریزرو کو اپنے اندازوں پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں معیشت کے رکنے کا کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔
غیر ایڈجسٹڈ دعوے بھی نمایاں طور پر کم ہوئے اور 49,419 گھٹ کر 1,97,221 پر آ گئے، جو موسمی ماڈل کی توقعات سے دوگنا کمی ہے۔ کیلیفورنیا میں 19,551 اور ٹیکساس میں 8,349 درخواستیں کم ہوئیں، جبکہ نیویارک، واشنگٹن اسٹیٹ اور فلوریڈا میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
امریکا میں لیبر مارکیٹ کو یوکرین جنگ، عالمی کساد بازاری کے خدشات اور فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسیوں کے باعث دباؤ کا سامنا ہے۔ تاہم بیروزگاری الاؤنس کی درخواستوں میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لیبر مارکیٹ اب بھی نسبتاً مستحکم ہے۔ تعطیلات کے دوران اعداد و شمار میں اتار چڑھاؤ عام ہے، لیکن موجودہ کمی نے سرمایہ کاروں اور ماہرین کو کچھ حد تک اطمینان دیا ہے کہ معیشت فوری طور پر بحران کی طرف نہیں جا رہی۔



