سانگھڑ (حسنین عاشق ساند)
تعلقی جام نواز علی کے گاؤں بالو خان ملوکانی کے رھائشی امیر علی ملوکانی نے میڈیا کے سامنے فریاد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی زمین، جو یوسی جام جانی کی دیہہ 61 جمڑائو میں واقع ہے، پر غلام حیدر ملوکانی، غلام قادر ملوکانی اور دیگر افراد زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق زمین پر اس وقت سرسوں اور گندم کی فصل کاشت کی گئی ہے، جسے مبینہ طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔
امیر علی ملوکانی نے بتایا کہ ان کا بھائی غلام مرتضیٰ ملوکانی جب کھیت پر گیا تو مذکورہ افراد نے اس پر حملہ کرکے شدید تشدد کیا اور اسے زخمی کردیا، ساتھ ہی موتمار دھمکیاں بھی دیں کہ زمین پر دوبارہ قدم نہ رکھو۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ خود بھائی کے ساتھ وہاں پہنچے تو مخالفین اسلحہ اور لاٹھیاں لے کر آگئے، جس کے باعث انہیں جان بچا کر بھاگنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے دلور موری پولیس کو بروقت اطلاع دی، لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کا الزام تھا کہ متعلقہ پولیس اہلکار مبینہ طور پر بااثر ملزمان کے ساتھ ملی بھگت میں ہیں، جو علاقے میں منشیات کا کاروبار بھی کرتے ہیں اور مسلسل انہیں سنگین دھمکیاں دے رہے ہیں، جس سے انہیں جان کا شدید خطرہ لاحق ہے۔
امیر علی ملوکانی نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد، ایس ایس پی سانگھڑ اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں فوری تحفظ فراہم کیا جائے



