قصور: قصور کے قریب ایک خاتون نے مبینہ طور پر خود کو آگ لگا لی جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے 2022 میں پولیس کانسٹیبل رفیق کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کرایا تھا، تاہم عدالت نے ڈی این اے میچ نہ ہونے پر ملزم کو بری کردیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون نے اپیل میں جانے کے بجائے خود پر پٹرول چھڑک کر خودکشی کی کوشش کی۔
ڈی پی او نے ایس پی انویسٹی گیشن کو انکوائری کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ اگر تفتیشی افسر کی ملی بھگت ثابت ہوئی تو محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ محکمہ پولیس نے ملزم رفیق کو نوکری سے برخاست کردیا تھا۔
پاکستان میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے مقدمات میں انصاف کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکثر متاثرین کو عدالتی نظام میں ثبوت کی کمی، تفتیشی عمل کی خامیوں اور ملزمان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈی این اے میچ نہ ہونے پر مقدمات اکثر کمزور پڑ جاتے ہیں، جس سے متاثرہ خواتین کو مزید ذہنی اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قصور کا حالیہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف کے فقدان اور تفتیشی عمل میں شفافیت کی کمی کس طرح متاثرین کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے۔



