امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے صرف 10 ماہ کے دوران 8 جنگوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی، جو کسی اور حکومت کے لیے ممکن نہ تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایک سال قبل امریکا ناکامیوں کے دہانے پر تھا لیکن ان کی قیادت میں ملک نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جو پہلے کبھی نہیں ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بائیڈن کی پالیسیوں کو دوبارہ نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ بائیڈن دور میں غیرقانونی امیگرینٹس نے امریکی شہریوں کی نوکریاں چھین لی تھیں، جبکہ ان کی انتظامیہ میں نئی ملازمتیں صرف امریکا میں پیدا ہونے والے شہریوں کو دی گئیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں کرپٹ نظام ختم کرنے کا عوامی مینڈیٹ ملا ہے اور غیرقانونی آمدورفت کو روک دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق زمین اور سمندر کے راستے منشیات کی اسمگلنگ میں 94 فیصد کمی آئی ہے۔
امریکا میں امیگریشن پالیسی اور جنگی تنازعات ہمیشہ سیاسی بحث کا مرکز رہے ہیں۔ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امیگریشن قوانین نرم کیے گئے تھے جس پر ریپبلکن جماعت نے شدید تنقید کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم اور صدارت کے دوران بارہا وعدہ کیا کہ وہ غیرقانونی امیگریشن کو روکیں گے، امریکی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھائیں گے اور عالمی سطح پر امریکا کو تنازعات سے دور رکھیں گے۔ ان کے حالیہ بیانات اسی پالیسی کے تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں، جس میں وہ اپنی حکومت کو امن قائم کرنے اور منشیات کے خلاف کامیاب قرار دے رہے ہیں۔



