ماسکو: روسی صدارتی محل کریملن نے کہا ہے کہ یوکرین کو ڈونباس کے زیرِ کنٹرول علاقوں سے دستبردار ہونا ہوگا اور نیٹو میں شمولیت ترک کرنا ہوگی۔ یہ بیان یوکرین کی جانب سے پیش کیے گئے 20 نکاتی امن منصوبے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کریملن کے مطابق روس یوکرین کی تجاویز پر اپنا مؤقف تیار کرے گا اور روسی صدر کو امن معاہدے کی تجاویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حالیہ امریکی مذاکرات کے دوران امریکہ کو ایک مفصل 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا۔ منصوبے کے اہم نکات میں امن کے وقت یوکرین کی فوجی تعداد تقریباً 8 لاکھ اہلکار رکھنے کی تجویز، امریکہ، نیٹو اور یورپ کی جانب سے نیٹو آرٹیکل 5 جیسی سکیورٹی ضمانتیں، اور یورپی یونین میں مستقبل میں شمولیت شامل ہیں۔
منصوبے میں عالمی امدادی پیکج اور 800 ارب ڈالر کے بحالی فنڈ کی تشکیل، امریکا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کی تکمیل، یوکرین کی غیر جوہری حیثیت اور زاپوروزھیہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی صورتحال بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ثقافتوں کے درمیان رواداری کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی پروگرام متعارف کروانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
صدر زیلنسکی کے مطابق یہ امن منصوبہ یوکرین کی بین الاقوامی سکیورٹی، اقتصادی بحالی اور یورپی مستقبل کو یقینی بنانے کی حکمت عملی ہے، تاہم کچھ نکات پر امریکا اور یوکرین کے درمیان مزید مذاکرات جاری ہیں۔



