ٹھاروشاہ رپورٹ (مختیار حسین بالادی)
ٹھاروشاہ شہر میں عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کی گئی کارروائیاں محض کاغذی اور نمائشی ثابت ہوئیں، جس کے باعث عطائیت کا منظم اور خطرناک کاروبار بدستور پوری بے خوفی سے جاری ہے۔ چند روز قبل ہیلتھ کیئر کمیشن نوابشاہ نے کارروائی کرتے ہوئے سات عطائی کلینکس کو سیل کرنے کا اعلان کیا، تاہم یہ دعویٰ بھی کھوکھلا ثابت ہوا کیونکہ مذکورہ کلینکس اگلے ہی دن دوبارہ کھل گئے، جو نہ صرف متعلقہ محکموں کی کارکردگی بلکہ ان کی نیت پر بھی سنگین سوالیہ نشان ہے۔
شہر میں بیس سے زائد عطائی کلینکس کھلے عام کام کر رہے ہیں، جہاں ناتجربہ کار اور غیر مستند افراد انسانی جانوں سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ کئی کلینکس پر ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کے بورڈ آویزاں ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اصل میں یہ نام نہاد ڈاکٹر صرف کاغذوں تک محدود ہیں، جبکہ مریضوں کا علاج ڈسپنسرز اور عطائی عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جو کسی بڑے انسانی المیے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
اس تشویشناک صورتحال کے خلاف شہریوں اور سماجی رہنماؤں علی اکبر برڑو، مختیار حسین بالادی، اعجاز علی مغل اور دیگر نے نیشنل پریس کلب ٹھاروشاہ کے سامنے ہیلتھ کیئر کمیشن نوابشاہ اور ایم ایس ٹھاروشاہ کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں صرف فوٹو سیشن اور اخباری بیانات تک محدود ہیں، جبکہ اصل میں بااثر عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ سندھ اور محکمہ صحت نوشہروفیروز کی مجرمانہ خاموشی نے عطائی مافیا کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ اگر فوری، سخت اور مستقل بنیادوں پر کارروائی نہ کی گئی تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ محکموں پر عائد ہو گی۔
شہریوں نے سیکریٹری صحت سندھ، وزیر صحت اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹھاروشاہ میں قائم تمام عطائی کلینکس کے خلاف بلا تفریق آپریشن کیا جائے، جعلی ڈاکٹروں کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان کی سرپرستی کرنے والے افسران کے خلاف بھی محکمانہ اور قانونی ایکشن لیا جائے، تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔
بصورت دیگر عوامی سطح پر شدید احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی وارننگ بھی دی گئی۔



