Hot Topics

ایران میں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے: 78 شہروں میں جھڑپیں، 19 ہلاکتیں اور سینکڑوں گرفتاریاں

ایران میں جاری احتجاجی مظاہرے اب 26 صوبوں کے 78 شہروں تک پھیل چکے ہیں، جہاں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ادارے ایچ آر اے این اے (HRANA) کے مطابق ان جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے جبکہ فائرنگ کے واقعات میں 50 سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے سخت کارروائی کرتے ہوئے 990 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس اور دیگر اداروں کی اضافی تعیناتی کے باوجود احتجاجی مظاہرے مسلسل بڑھ رہے ہیں اور عوامی غصہ کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

یہ مظاہرے اب نویں روز میں داخل ہو چکے ہیں اور جامعات کے طلبہ بھی بڑی تعداد میں احتجاجی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ ایچ آر اے این اے کے مطابق مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس نے فائرنگ، آنسو گیس اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں تاکہ احتجاج کے دائرہ کار کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

ادھر حکومت نے عوامی دباؤ کم کرنے کے لیے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چار ماہ تک شہریوں کو 7 ڈالر ماہانہ الاؤنس دیا جائے گا۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قلیباف نے کہا ہے کہ مظاہرین کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جانا چاہیے، تاہم غیر ملکی ایجنٹوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔

📖 پس منظر

ایران میں حالیہ احتجاجی لہر اس وقت شروع ہوئی جب عوامی حلقوں میں معاشی مشکلات، مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف غصہ بڑھنے لگا۔ ماضی میں بھی ایران میں معاشی بحران اور سماجی آزادیوں پر پابندیوں کے باعث بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے کو ملے ہیں۔ اس بار احتجاجی تحریک زیادہ منظم دکھائی دے رہی ہے کیونکہ طلبہ، مزدور اور عام شہری سب اس میں شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے مالی الاؤنس کا اعلان عوامی دباؤ کم کرنے کی کوشش ہے، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ مظاہرے صرف معاشی مسائل نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی آزادیوں کے مطالبات سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

Tags :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Recent News

About Us

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, mattis, pulvinar dapibus leo.

Top categories

Tags

Blazethemes @2024. All Rights Reserved.